گڑگاؤں میں ڈیرہ اسماعیل خان کی یادیں

سمیرن پریت کوربی بی سی ہندی

  • 23, اگست 2017
ڈیرہ اسماعیل خان میں اب بھی ہندوؤں کے مکانات کی نشانیاں موجود ہیں

تقسیمِ ہند سے قبل ڈیرہ اسماعیل خان میں ہندو بڑی تعداد میں آباد تھے جن کی نشانیاں آج بھی اس شہر میں دیکھی جا سکتی ہیں اور یہ نشانیاں بٹوارے سے پہلے یہاں رہنے والوں کی کہانیاں بتاتی ہیں۔

بٹوارے کے بعد پاکستان کے حصے میں آنے والے دیگر علاقوں کی طرح ڈیرہ اسماعیل خان سے بھی بہت سے ہندو خاندانوں نے اپنا گھربار چھوڑ کر انڈیا کا رخ کیا اور اپنے ساتھ اس علاقے کی زندگی، زبان اور ثقافت بھی ساتھ لے آئے۔

تقسیم کے 70 برس: بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

دہلی کے قریب گڑگاؤں میں رہنے والی پریم پپلانی بھی انھی افراد میں شامل ہیں اور وہ اب بھی ڈیرہ اسماعیل خان کی زبان سرائیکی بولتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘تقسیم کے وقت ماحول خراب تھا۔ مجھ پر بھی تلوار سے حملہ ہوا۔ تقسیم کے بعد بہت سے لوگ ہندوستان آئے اور جسے جہاں جگہ ملی وہ وہاں بس گیا۔ میں 50 سال جالندھر میں رہا اور پھر گڑگاؤ ں آگیا۔’

PIPLANI HOUSE
Image captionپریم کا آبائی مکان اب ایک سرکاری سکول میں تبدیل ہو چکا ہے

ڈیرہ اسماعیل خان کی محبت تقریباً 57 برس بعد ایک بار پھر 1999 میں پریم کو واپس پاکستان لے گئی۔

انھوں نے بتایا، ‘جیسے ہی میں نے وہاں قدم رکھا، وہی مٹی کی خوشبو تھی، وہی احساس تھا جو 1942 میں ہوتا تھا۔ وہاں جا کر ایک عجیب سا جوش پیدا ہو گیا۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘اتنے سالوں میں کچھ نہیں بدلا۔ اس علاقے میں اب تک پرانے گھر ہیں، گئو شالا ہے اور ایک مندر بھی ہے۔ ہندوؤں اور سکھوں کے گھروں پر ان کے ناموں کی تختیاں اب بھی ہیں۔ بہترین احساس تب ہوا جب اپنا گھر دیکھا۔ یہ گھر میرے دادا نے تعمیر کروایا تھا۔ اب وہاں ایک سرکاری سکول ہے۔’

DAUGHTER OF PREM PIPLANI
Image captionپریم کی بیٹی نیلما کے مطابق ان کے والد کچھ خاص مواقع پر اب بھی وہ کپڑے پہنتے ہیں جو ڈیرے والے پہنتے ہیں

پریم کی ڈیرہ اسماعیل خان آمد نے وہاں کے رہائشیوں کو بھی حیران کیا۔

ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے بلند اقبال نے بی بی سی سے بات چیت میں بتایا، ‘جب لوگوں کو پتہ چلتا ہے کہ وہ بھارت سے آئے ہیں اور یہاں کی زبان یعنی سرائیکی بولتے ہیں تو لوگ بہت حیران ہوتے ہیں۔ یہ بھی حیران کن ہے انڈیا میں ان جیسے کئی اور لوگ بھی ہیں۔’

PREM PIPLANI

پریم پپلانی تو ڈیرہ اسماعیل خان کی زبان بولتے ہیں اور وہاں کے رہن سہن کے بارے میں بھی جانتے ہیں لیکن ان کے خاندان کی نئی نسل کے لوگوں کا رشتہ اس ثقافت سے کچھ مضبوط نہیں۔

other derawals
Image captionجب یہ ڈیرے والے ملتے ہیں تو پرانی یادیں تازہ کرتے ہیں

ان كي بیٹی نيلما وگ نے بتايا، ‘میں سرائيكي کے چند الفاظ سمجھ سکتی ہوں لیکن زبان پوری طرح نہیں جانتی۔ میرے والد کچھ خاص مواقع پر اب بھی وہ کپڑے پہنتے ہیں جو ڈیرے والے پہنتے ہیں۔’

KATE HOME

آج کے انڈیا میں گنے چنے لوگ ہی بچے ہیں جو ڈیرہ اسماعیل خان کی سرائیکی بولتے ہیں لیکن اب بھی جب یہ ڈیرے والے ملتے ہیں تو پرانی یادیں تازہ کرتے ہیں اور سرائيكي کے لوک گیت گا کر ماضی یاد کرتے ہیں۔

Source

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s